بزم علم و فن پاکستان

مختصر تاریخ



بزم علم و فن پاکستان 1952 ء میں ایبٹ آباد میں قائم کی گئی ۔ملک میں ادبی اورعلمی صورتحال کی بہتری کے لیے کام کرنا بزم کے بنیادی مقاصد میں شامل رہا ہے ۔ بزمِ علم و فن نے نہ صرف علمی اور ادبی شخصیات کو متعارف کرایا بلکہ ہزارہ میں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور کہنہ مشق لکھاریوں کی پذیرائی کے لیئے نہایت اہم خدمات سر انجام دیں ۔ ماضی میں جسٹس سجاد احمد جان، جسٹس ایم۔آر۔کیانی، سید واجد رضوی اور پروفیسر شوکت واسطی کی سرپرستی کا اعزاز رکھنے والی بزم علم و فن کوحالیہ دور میں جناب محمد اظہار الحق ، جناب سلطان سکون، جناب آصف ثاقب اورپروفیسر صوفی عبدالرشید کی سرپرستی حاصل ہے

اغراض و مقاصد





اعلیٰ اقدار کے حامل علم و ادب اور فن کا فروغ ۔

علم و ادب اور فن کے ذریعے انصاف ، رواداری اور باہمی احترام کی بازیافت۔

علمی ،ادبی اور ثقافتی تقاریب کا انعقاد۔

کتابوں کی اشاعت۔

علمی و ادبی تربیتی نشستوں کا اہتمام۔

نئے لکھنے والوں کی رہنمائی اور ادبی مراکز اور ذرائع ابلاغ تک رسائی میں ان کی معاونت۔

مصوری، ڈرامہ اور موسیقی وغیرہ کی ترقی کے لیئے کوشش ۔

فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کی خوشحالی اور ان کی ہر سطح پر پہچان کے لیے کوشش ۔

( علم و ادب اور فن سے وابستہ افراد بزم کی رکنیت حاصل کر سکتے ہیں)

,رکن بننے کے لیے منسلک فارم پُر کر کے درج ذیل پتے پر روانہ کریں سیکرٹری بزم علم و فن ، پاکستان (ہزارہ شاخ)، ماڈرن ایج پبلک سکول و کالج مانسہرہ روڈ (سپلائی)ایبٹ آباد